Fiction


اے ماہ نور۔!!

سال کی سب سے لمبی اور سرد رات تمہاری بانہوں کے حصار میں گزارنا چاہتا ہو۔!!
تقدیر کا ستارہ روشن کرنے کیلئے تمہارے ماتھے کی بندیا سے نکلنے والی تجلی سے بننے والی کہکشاں تمہارے سندر کانوں میں جھومتی بالیاں اور تمہاری پازیب سے نکلنے والی چھن چھن کے سازوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں ۔!

Comments